ابنا: کراچی میں دھماکے پر حکومت سندھ اور پنجاب یوم سوگ منا رہی ہیں، سندھ میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے، سانحہ عباس ٹاون کے خلاف تجارتی و کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔ حکومت سندھ اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے عباس ٹاؤن بم دھماکوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ حکومت کے اعلان پر صوبے میں یوم سوگ اور سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔ سندھ اسمبلی میں آج ہونے والا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کراچی دھماکے پر پنجاب حکومت، ایم کیو ایم، اے این پی، سنی اتحاد کونسل، سنی تحریک، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی یوم سوگ منا رہی ہیں۔ شیعہ علماء کونسل، جعفریہ الائنس پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین نے تین روز سوگ اور شہر میں پرامن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاجر برادری، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تنظیموں اور رکشہ ٹیکسی ایسوسی ایشن اور وکلا بھی متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے ہڑتال کر رہے ہیں۔ یوم سوگ اور ہڑتال کے باعث سندھ میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند ہیں۔ حیدر آباد کی سندھ یونیورسٹی نے بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے اپیل پر وکلا نے ملک بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
دیگر ذرائع کے مطابق کراچی ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا، عباس ٹاؤن دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 45 ہوگئی ہے۔ 150 سے زائد افراد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، دھماکے کی جگہ پر ملبہ ہٹانے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دہشت گرد پھر گھات لگائے بیٹھے تھے اور اُن کا ہدف اقراء سٹی پلازہ کی رہائیشی عمارت بنی، ایک خوفناک دھماکہ ہوا، جس سے پورا علاقہ لرز اُٹھا، گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اکھڑ گئیں اور شیشے ٹوٹ گئے، پھر آگ نے کئی عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، دھماکے سے 700 میٹر کا علاقہ متاثر ہوا۔ دھماکے سے بجلی کا نظام معطل ہونے سے پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ لوگوں نے خود ہی پھنسے ہوئے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو نکالا۔ پولیس نے دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا انجن قبضے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دھماکے کی جگہ پر 4 فٹ گہرا اور 10 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ عباس ٹاؤن کے زخمیوں کو عباسی شہید، ہسپتال، پٹیل ہسپتال، جناح ہسپتال اور دیگر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، جن میں بعض کی حالت نازک بیان کی جا رہی ہے۔
ادھر عباس ٹاؤن میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ گورنرسندھ کو پیش کر دی گئی ہے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے صدر آصف علی زرداری نے فون پر گفتگو کی۔ جس میں گورنر نے دھماکے پر بریفنگ دی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں ایک سو پچاس کلوبارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دہشت گردی کی کارروائی میں بارود سےبھری گاڑی استعمال ہوئی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 150 کلو باوردی مواد استعمال ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے 500 سے700میٹر کا علاقہ متاثر ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی جگہ 4 فٹ گہرا،10 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ اس سے پہلے پولیس نے موقف اختیار کیا تھا کہ دھماکے کیلئے موٹر سائیکل استعمال ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں سی فور بارود استعمال ہوا۔ بارود کے ساتھ بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے بھی تھے۔ جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دھماکے میں آگ بھڑکانے والا کیمکل بھی استعمال ہوا۔ جس سے عمارتوں کو آگ لگ گئی۔
.......
/169